ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

یہ رسم انبیا زندہ ہمیں سادات رکھیں گے

یہ رسم انبیا زندہ ہمیں سادات رکھیں گے
جہاں پر آگ دیکھیں گے وہیں پر ہات رکھیں گے
زمیں ہم سے تری بے رونقی دیکھی نہیں جاتی
کہیں دریا بہائیں گے کہیں باغات رکھیں گے
نہیں ہے کربلا سے واپسی کا راستہ کوئی
جہاں بھی جائیں گے شہزادیوں کو ساتھ رکھیں گے
یہ صبحیں اور شامیں کتنی بے چہرہ سی ہیں ثروتؔ
سجا کر ان دریچوں میں نئے دن رات رکھیں گے

ثروت حسین