search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
شیخ ابراہیم ذوق
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا
ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
مذکور تیری بزم میں کس کا نہیں آتا
باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہے
ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
وقت پیری شباب کی باتیں
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
ہے تیرے کان زلفِ معنبر لگی ہوئی
تیرے آفت زدہ جن دشتوں میں اڑ جاتے ہیں
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
قفل صد خانۂ دل آیا جو تو ٹوٹ گئے
اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا
خوب روکا شکایتوں سے مجھے