شکیل بدیوانی — شاعر کی تصویر

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے — شکیل بدیوانی

شاعر

تعارف شاعری

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے

نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے
نئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہے
غم عشق سے ہیں غم ہستی کے ہنگامے جدا لیکن
وہاں بھی دن گزرتے ہیں یہاں بھی کام چلتا ہے
چھپے ہیں لاکھ حق کے مرحلے گم نام ہونٹوں پر
اسی کی بات چل جاتی ہے جس کا نام چلتا ہے
جنون رہروی وقت کی رفتار سے پوچھو
کوئی منزل نہیں لیکن یہ صبح و شام چلتا ہے
شکیلؔ مست کو مستی میں جو کہنا ہے کہنے دو
یہ مے خانہ ہے اے واعظ یہاں سب کام چلتا ہے

Na Paimane Khanakte Hain Na Daur-e-Jam Chalta Hai

Na paimane khanakte hain na daur-e-jam chalta hai
Nai duniya ke rindon mein Khuda ka naam chalta hai
Gham-e-ishq se hain gham-e-hasti ke hangame juda lekin
Wahan bhi din guzarte hain yahan bhi kaam chalta hai
Chhupe hain lakh haq ke marhale gum-nam honton par
Isi ki baat chal jaati hai jis ka naam chalta hai
Junun-e-rahrawi-e-waqt ki raftar se puchho
Koi manzil nahin lekin ye subh o sham chalta hai
Shakeel mast ko masti mein jo kehna hai kehne do
Ye mai-khana hai aye waiz yahan sab kaam chalta hai

شاعر کے بارے میں

شکیل بدیوانی

شکیل بدایونی اردو شاعری اور بھارتی فلمی نغمہ نگاری کے ان ممتاز ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد اسلوب، رومانویت اور لفظوں کی لطافت سے ای...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام