سید مبارک شاہ یکم جنوری 1961ء کو چکوال کے قصبہ ڈھلی ڈھگٹال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1983ء میں سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ مبارکؔ شاہ 1984ء میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر واپڈا میں تعینات ہوئے اور 1986ء میں سی ایس ایس کی بنیاد پر سول سروسز آف پاکستان میں شامل ہوئے۔
مبارکؔ شاہ کا پہلا شعری مجموعہ 1993ء میں سامنے آیا جس کا عنوان تھا ”جنگل گمان کے“- 1995ء میں ان کی دوسری کتاب ”ہم اپنی ذات کے کافر“ شائع ہوئی- 1995ء ہی میں انتخاب پر مبنی ان کی کتاب ”زمیں کو انتظار ہے“ سامنے آئی”مدارِ نارسائی میں“ کے نام سے ان کا مجموعہ کلام 1998ء میں شائع ہوا- ان کا سفر نامہ ”برگد کی دھوپ میں“ 2000ء میں شائع ہوئی ان کے انتقال کے بعد 2017ء میں ان کی کلیات کو ”کلیاتِ سید مبارک شاہ“ کے نام سے پیش کیا گیا جسے بھرپور پزیرائی حاصل ہوئی- اس کلیات کو سلطان ناصر اور گل شیر بٹ نے ترتیب دیا۔ ستائیس جون 2015ء کو مبارکؔ شاہ کا انتقال راولپنڈی، پاکستان میں ہوا۔ انھیں راولپنڈی میں ہی ڈھیری حسن آباد کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔
بقول امجد اسلام امجد سید مبارک شاہ کی شاعری پر سقراط کی آزاد فکری اور حسین حلاج کی ''ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا " کے بڑے شدید اثرات تھے۔ خدا کی ذات، تخلیق کائنات، خالق اور مخلوق کے تعلق، فلسفۂ جبر اور ازل اور ابد سے ماورا زمانوں کا تصور اور ان کی تلاش وہ موضوعات ہیں جو سید مبارک شاہ کے تقریبا ہر کلام کا خاصہ ہیں، سید مبارک شاہ کی شاعری کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ الفاظ کے حسن اور اُن کی آوازوں کی ہم آہنگی پر غیر معمولی گرفت رکھتے تھے۔