اردو شعرا

شاعر

تعارف شاعری

کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ

کچھ بچانے کے لیے عمر گنواتے ہوئے لوگ
خرچ ہو جائیں گے یہ خواب کماتے ہوئے لوگ
بھول جاتے ہیں کہ اب یاد نہیں رکھنا مجھے
میرا قصہ مجھے آ آ کے سناتے ہوئے لوگ
اک توقع کا بہر حال بھرم رکھتے ہیں
روٹھنے والوں کو ہر بار مناتے ہوئے لوگ
چھوڑ جائیں گے کسی دن یہ بتاتے ہی نہیں
یہ بتاتے ہی نہیں اپنا بناتے ہوئے لوگ
تیری دہلیز پہ کچھ پھول نہیں خود کو بھی
چھوڑ آتے ہیں ترے شہر سے جاتے ہوئے لوگ
ہر تعلق میں یہی خوف کہ بس اب کے گیا
ہم فصیلوں کی دراڑوں کو چھپاتے ہوئے لوگ
سو نہیں پائیں گے کمرے میں اندھیرا کر کے
جاگتی آنکھ میں منظر کو سلاتے ہوئے لوگ
خوش لباسی بھی ہے پردہ کسی محرومی کا
جسم سے روح کے آزار چھپاتے ہوئے لوگ
انفال رفیق

اردو شعرا