وقت چلتا ہی رہا کرتا ہے
رُکتا تو نہیں
لوگ ملتے ہیں
بچھڑ جاتے ہیں
پھر ملتے ہیں
راستے ہاتھ نہیں آتے کبھی
اور کبھی پیروں سے آآ کے لپٹ جاتے ہیں
یونہی اک آس سی رہتی ہے ہمیں
ممکن ہے
انہی رستوں پہ اچانک یونہی چلتے چلتے
کل نہیں تو آج، نہیں آج تو کل
دل کی دھرتی پہ کسی روز کھلو گے تم بھی
دل یہ کہتا ہے کہ اک روز ملو گے تم بھی
Waqt chalta hi raha karta hai
Rukta to nahin
Log milte hain
Bichhad jaate hain
Phir milte hain
Raaste haath nahin aate kabhi
Aur kabhi pairon se aa aa ke lipat jaate hain
Yunhi ik aas si rehti hai hamein
Mumkin hai
Unhin raston pe achaanak yunhi chalte chalte
Kal nahin to aaj, nahin aaj to kal
Dil ki dharti pe kisi roz khiloge tum bhi
Dil yeh kehta hai ke ik roz miloge tum bhi
سید وصی شاہ 21 جنوری 1973ء کو سرگودھا، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کی۔ نوجوانی میں انہ...
مکمل تعارف پڑھیں