وصی شاہ — شاعر کی تصویر

کبھی یوں بھی تو ہو — وصی شاہ

شاعر

تعارف شاعری

کبھی یوں بھی تو ہو

کبھی یوں بھی تو ہو
کہ بادل برسے
اور تیری یاد مجھے
بھیگ جانے دے ساری
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ ہم کھو جائیں
اور دنیا ہمیں
ڈھونڈتی رہ جائے
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ میں تیری بانہوں میں
سر رکھوں
اور زندگی گزر جائے
کبھی یوں بھی تو ہو
کہ میں تیری پلکوں پہ
بند آنکھوں کی
دعائیں رکھ دوں

Kabhi yoon bhi to ho

Kabhi yoon bhi to ho
Ke baadal barse
Aur teri yaad mujhe
Bheeg jaane de saari
Kabhi yoon bhi to ho
Ke hum kho jaayen
Aur duniya humein
Dhoondhti reh jaaye
Kabhi yoon bhi to ho
Ke main teri baanhon mein
Sar rakhun
Aur zindagi guzar jaaye
Kabhi yoon bhi to ho
Ke main teri palkon pe
Band aankhon ki
Duaaein rakh doon

شاعر کے بارے میں

وصی شاہ

سید وصی شاہ 21 جنوری 1973ء کو سرگودھا، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کی۔ نوجوانی میں انہ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام