search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
وصی شاہ
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
ہم نے نیکی کا کوئی کام کیا ہو گا وصی
کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
خدا ہی جانے کہ ان کی سزائیں کیا ہوں گی
دلِ مکار کو مکار پکارا جائے
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
ایک دوجے کو بوڑھا ہوتے دیکھا ہے
اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے
سنگ دل ایسا کہ ہاں کرتا نہ ہوں کرتا تھا
جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گا
کنگن
اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا
جب رات کی ناگن ڈستی ہے
کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم
جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو
اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے
درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
گر پیادہ بھی کوئی جیت کے نکلا تو تِرا
جان سے مار دے مجھے لیکن
یہ بھی ممکن ہے کسی روز نہ پہچانوں اُسے
کبھی یوں بھی تو ہو
مگر یہ طے ہے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوں
دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
ایمان
اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو