ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
بکھر گئے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے
تمہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
میں مسکراتا ہوا آئنے میں ابھروں گا
وہ رو پڑے گی اچانک سنگھار کرتے ہوئے
وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں ہیں
میں ان میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے
بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے
Tere firaaq ke lamhe shumaar karte hue
Bikhar gaye hain tera intezaar karte hue
Tumhein khabar hi nahin hai ke koi toot gaya
Muhabbaton ko bahut paaidaar karte hue
Main muskuraata hua aaine mein ubhroon ga
Woh ro padi gi achaanak singhaar karte hue
Woh keh rahi thi samundar nahin hain aankhein hain
Main un mein doob gaya eitbaar karte hue
Bhanwar jo mujh mein pade hain woh main hi jaanta hoon
Tumhare hijr ke darya ko paar karte hue
سید وصی شاہ 21 جنوری 1973ء کو سرگودھا، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کی۔ نوجوانی میں انہ...
مکمل تعارف پڑھیں