ظفرگورکھپوری

شاعر

تعارف شاعری

کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب

کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب
بھیگے موسم میں بھی اتنی آنچ پردوں کے قریب
جیسے وہ جوڑا ابھی تک مانگتا ہے مجھ سے پھول
پاؤں رک جاتے ہیں اکثر آ کے گملوں کے قریب
زندگی نے دے کے محسوسات کی دولت مجھے
کیسی کیسی برچھیاں رکھ دی ہیں سانسوں کے قریب
جانتا تھا ایک دن دنیا کو ہو گی اپنی کھوج
میں نے اپنی رہگزر رکھ دی تھی نقشوں کے قریب
کس کہانی کو بچانا چاہتا تھا وہ ظفرؔ
اک لرزتا ہاتھ تھا کاغذ کے پُرزوں کے قریب

ظفرگورکھپوری