ظفرگورکھپوری

شاعر

تعارف شاعری

نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے

نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے
کوئی تو ہے جو میرا کام سارا کر رہا ہے
اس آبادی میں کچھ ہوں گے جنہیں پیاری ہے دنیا
بڑا حصہ تو مجبوراً گوارا کر رہا ہے
نہ پوچھو دل کی‘ آنسو خشک ہیں اور درد کم کم
یہ دیوانہ کسی صورت گزارا کر رہا ہے
زمیں کی کوکھ چھلنی کر رہا ہے رات دن جو
وہ اپنے آپ کو بھی پارہ پارہ کر رہا ہے
مژہ سے ٹوٹ کر گرنے کا منظر سب نے دیکھا
خبر بھی ہے جو مٹی میں ستارہ کر رہا ہے
مجھے یوں بے سہارا کر کے اس کو کیا ملے گا
مگر کچھ سوچ کر ہی بے سہارا کر رہا ہے
کڑی ہے دھوپ‘ رک جاؤ ذرا آموں کے نیچے
ظفر صاحب! تمھیں کوئی اشارہ کر رہا ہے

ظفرگورکھپوری