search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ظفرگورکھپوری
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب
مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب
نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے
شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ
عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگوں نے
نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا
مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے
دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
اور آہستہ کیجیے باتیں
اب کے سال پُونم میں
تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی
جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو
زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے