زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
آئے، تلوار پہ چلنا کوئی ہم سے سیکھے
اپنی منزل تو ہے گر کے سنبھلنا اے دوست
اور گر گر کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
درد کھنچک آئے لبِ زیست پہ نغمہ بن کر
اُس طرح دردمیں ڈھلنا کوئی ہم سے سیکھے
نازشِ شوق ہیں ہم، سوختہ سامانِ بہار
پھول کی آنچ سے جلنا کوئی ہم سے سیکھے
ذرے ذرے میں سمانا تو ہے آسان مگر
موجِ مئے بن کے اُبَلنا کوئی ہم سے سیکھے
راہ پرخار پہ چلنے کو سبھی چلتے ہیں
مسکراتے ہوئے چلنا کوئی ہم سے سیکھے
اُجنبی بن کے کسی بزم میں داخل ہونا
آشنا ہو کے نکلنا کوئی ہم سے سیکھے
تیرگی سربگریباں ہے اَجالوں کی قسم
روشنی کے لیے جلنا کوئی ہم سے سیکھے
ظفرگورکھپوری