ظفراقبال

شاعر

تعارف شاعری

ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا

ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
غیر ممکن ہے ابھی تجھ سے محبت کرنا
وصل ہو گا کہ نہیں چھوڑ دیا قسمت پر
عشق میں بھی ہمیں آیا نہیں محنت کرنا
اپنے اپنے تھے اصول اور نہیں تھا ممکن
ایک کا دوسرے سے کوئی رعایت کرنا
اتنے مجبور ہیں لیکن کبھی ملنے نہ گئے
نہ ہی اس سے یہ کہا ہے کبھی زحمت کرنا
چومنا چاہتے تھے ہم اگر آنکھیں اس کی
محض مطلوب تھا اظہار عقیدت کرنا
دل کا پھیلاؤ اگر چاروں طرف ہے موجود
پھر مناسب ہے اسی دشت میں وحشت کرنا
ہم کو استاد نے پہلا یہ پڑھایا تھا سبق
کام جو سہل نظر آئے کبھی مت کرنا
ترک الفت ہی کیا ہم نے کہ مشکل تھا ظفرؔ
اک غلط سوچ کی تادیر حمایت کرنا

ظفراقبال