ظفراقبال

شاعر

تعارف شاعری

ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم

ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم
جو شامِ غم میں لبوں پر لرز گپ کئی بار سبھی کے بھاگے ہوئے تھے اُس ایک نام سے ہم
شب خار تھی ، سے تھی ، بہار تھی ، لیکن یٹ کے سو رہے عکس فروغ جام سے ہم
الجھ رہیں گے کیسی اور بحر ہے تہ میں نکل بھی جائیں اگر سیل صبح و شام سے ہم
یہ اور بات کہ صحبت ہی ہل گئی ایسی دگرنہ شہر میں آنے تھے اپنے کام سے ہم
جو دوسروں کے لیے آبدار رکھتے تھے ہوئے ہیں قتل اُسی تیغ بے نیام سے ہم
رواں دواں رہی دُنیا مثال مور د مگس اُتر کے دیکھ نہ پائے فراز بام سے ہم
ہمارے زخم نہاں پر فسردہ ہو نہ کوئی ہیں پر بہار اسی نقش ناتمام سے ہم
ہمارے شعر ہیں پر نہ کھل سکیں شاید ڈرے ہوئے ہیں کچھ ایسے قبول عام سے ہم

ظفراقبال