ظفراقبال

شاعر

تعارف شاعری

جیسے تیسے رہ جاتا ہے

جیسے تیسے رہ جاتا ہے
سب کچھ ایسے رہ جاتا ہے
لاش ابھر آتی ہے اوپر
پانی نیچے رہ جاتا ہے
میں ہی نکل جاتا ہوں آگے
قاری پیچھے رہ جاتا ہے
کام جو وقت پہ کیا نہ جائے
رہتے رہتے رہ جاتا ہے
رہنے پر آ جائے تو وہ
کسی بہانے رہ جاتا ہے
سوچے سمجھے وہ نہ رہے تو
بھولے بھٹکے رہ جاتا ہے
تیز بہت چلنے والا بھی
آدھے رستے رہ جاتا ہے
بات وہ کیا ہے جسے ظفرؔ تو
کہتے کہتے رہ جاتا ہے

ظفراقبال