search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ظفراقبال
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھا
شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
اپنا تو خیر نامۂ اعمال لے گئے
آئی ہے میری سمت صدا ور دور سے
آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ
چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگے
میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا
آتش و انجماد ہے مجھ میں
بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا
رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا
کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے
دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گ
لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمجھتا ہوں
گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے
یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود
دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھے
جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہے
نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں
خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے
خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے
رخ زیبا ادھر نہیں کرتا
ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم
ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
جیسے تیسے رہ جاتا ہے