اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
یہ جو حالات ہوئے جاتے ہیں بہتر میرے
وہ کوئی چاند کا ٹکڑا بھی نہیں تھا، لیکن
چاندنی اُس کی بچھی رہتی ہے اندر میرے
اک صدا سی کہیں رکھتی ہے مرے پاس آ کر
اک ہوا سی کوئی چلتی ہے برابر میرے
ظفراقبال