زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

آنسو دھانی ہو جاتے ہیں

آنسو دھانی ہو جاتے ہیں
آنچل پانی ہو جاتے ہیں
تیری چاہ میں مرنے والے
لوگ کہانی ہو جاتے ہیں
کچھ ایسے بھی چہرے ہیں جو
یاد زبانی ہو جاتے ہیں
کھیل وہ کھیلیں؟ جس میں ہم تم
راجہ رانی ہو جاتے ہیں
آوازیں گم ہو جاتی ہیں
حرف نشانی ہو جاتے ہیں
زین چلو ہم خاموشی سے
بات پرانی ہو جاتے ہیں

زین شکیل