زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے

آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے
میری خاطر کوئی اک بار بدل کر آئے
شہر والوں کو تماشہ ہے تو پھر یونہی سہی
کون حسرت سرِ بازار بدل کر آئے
وہ بھی تو نت نئے کردار کے گرویدہ تھے
اس لیے ہم کئی کردار بدل کر آئے
میں یہ سب کچھ اسے اک بار میں کیسے سونپوں
اس سے کہہ دو کہ کئی بار بدل کر آئے
ہم تو آنکھوں سے ہی پہچان لیا کرتے ہیں
آپ چہرہ یونہی بے کار بدل کر آئے
کب تلک یوں ہی انہیں روز پکاروں یارو
اب تو ان کا کوئی انکار بدل کر آئے
میرے کپڑوں سے ہے الجھن تو سنو ہم جاکر
یوں گئے اور مری سرکار، بدل کر آئے

زین شکیل