زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا

آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا
اب ا سے حال سنایا بھی نہیں جا سکتا
وہ مناتا جو نہیں روٹھے ہوئے لوگوں کو
اس سے اب روٹھ کے جایا بھی نہیں جا سکتا
اس کو تاروں میں کوئی خاص نہیں دلچسپی
چاند کو توڑ کے لایا بھی نہیں جا سکتا
جس کی تعبیر میں ہاتھوں میں لئے پھرتا ہوں
اب اسے خواب میں لایا بھی نہیں جا سکتا
اُس سے ہم ترکِ تعلق بھی نہیں کر سکتے
بات کو اور بڑھایا بھی نہیں جا سکتا
تم نے تاخیر بہت کی ہے صدا دینے میں
مجھ سے اب لوٹ کے آیا بھی نہیں جا سکتا

زین شکیل