زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اب کیسے بتائیں، تمہیں کیسا نہیں سوچا

اب کیسے بتائیں، تمہیں کیسا نہیں سوچا
ہم نے تو تمہیں دوسروں جیسا نہیں سوچا
لوگوں نے بنا رکھی ہیں باتیں ترے بارے
اب ہم نےترے بارے میں ویسا نہیں سوچا!
تو نے بھی ہمیں چاہنے جیسا نہیں چاہا
ہم نے بھی تجھے سوچنے جیسا نہیں سوچا
تو پاس نہیں اور تجھے پاس نہ پا کر
تو ہم سے جدا ہے کبھی ایسا نہیں سوچا
تو نے بھی مجھے سوچ کے کاٹے تھے کئی دن
کیا تو نے مجھے اب کبھی ویسا نہیں سوچا؟
تجھ کو بھی میں بدلا ہوا لگتا ہوں کہیں سے
میں نے بھی تجھے ویسے کا ویسا نہیں سوچا
اظہارِ محبت پہ مجھے اس نے کہا تھا
ایسے نہیں دیکھا تجھے، ایسا نہیں سوچا

زین شکیل