زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پنجابی ادب کی طرف رہا۔ انہوں نے اپنی فنی اور ادبی دلچسپی کو عملی شکل دیتے ہوئے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے جو قاری کو گہرے جذبات اور احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ ان کے ابتدائی مجموعے "چلو اداسی کے پار جائیں 2015 "نے انہیں نوجوان ادبی حلقوں میں ایک منفرد مقام دلایا، اور اس کے بعد انہوں نے مسلسل تخلیقی سفر جاری رکھتے ہوئے مزید چار مجموعےسن سانسوں کے سلطان پیا ، کن لوگوں میں چھوڑ گئے ہو، اب کون کہے تم سے اور تیری آواز معجزہ کر دے 2022 میں شائع کیے۔ا ن کی اپنی موبائل ایپلیکیشنز زین شکیل کے نام سے موجود ہیں جہاں ان کی تحریریں پڑھی جا سکتی ہیں
زین شکیل کی شاعری میں نہ صرف غزل اور نظم کی روایت نمایاں ہے بلکہ ان کی نثر بھی خاصی متاثر کن ہے۔ انہوں نے اردو نظم، اردو نثر کے ساتھ ساتھ پنجابی نظم، پنجابی غزل، پنجابی ماہیے اور پنجابی نثر میں بھی مہارت حاصل کی ہے۔ ان کی تخلیقات میں محبت، درد، انسانی جذبات اور سماجی مسائل کی عکاسی بڑی خالصیت اور سلیقے کے ساتھ کی گئی ہے، جو قاری کے دل کو بآسانی چھو لیتی ہیں۔
ان کے نعتیہ اور منقبت کلام میں اہل بیت سے محبت کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں روحانی رنگ کو بھی خوبصورتی سے شامل کیا ہے، جس سے ان کے کلام میں ایک معنوی گہرائی اور روحانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر زین شکیل اردو اور پنجابی ادب میں ایک ہمہ جہت شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جن کی تخلیقات محبت، جذبات اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں۔