زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے

اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے
ہم نے پتھر کو بہر طور گہر جانا ہے
جس طرح کٹتی گئی رات بھی خاموشی سے
اس طرح ہم نے کسی شام گزر جانا ہے
چاند کو ہم نے بتانا ہے ترے بارے میں
آج تو ہم نے بڑی دیر سے گھر جانا ہے
زین اس کو تو اجاڑا ہے کئی صدیوں نے
ایک لمحے میں کہاں اس نے سنور جانا ہے
اور پھر میرے سوا کون سہے گا اس کو
اور پھر اس کے سوا میں نے کدھر جانا ہے
زین مالاسا ہمیں اس نے پرو رکھا ہے
ہم نے چپ چاپ کسی روز بکھر جانا ہے

زین شکیل