زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا

عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا
تو نے کس موڑ پہ آ مجھ کو پکارا یارا
کس طرح چاند سجا آ کے ترے ماتھے پر
کیسے اترا تری آنکھوں میں ستارا یارا
جیت کا جشن بھی چھپ چھپ کے منایا تو نے
دیکھ میں کیسے ترے سامنے ہارا یارا
چیخنے لگ گئی اندر کی اداسی مجھ میں
میں نے رو رو کے تجھے اتنا پکارا یارا
ایک بھی پل نہیں کٹتا تھا تجھے دیکھے بن
اب ترے بعد کریں کیسے گزارا یارا
میں تو اب بھی ہوں تری آنکھ سے اوجھل منظر
تُو تو اب بھی ہے مجھے جان سے پیارا یارا
تم بھی اب شہر کی باتوں میں چلے آتے ہو
اب تمہیں کیسے کہوں میں ہوں تمہارا یارا

زین شکیل