زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

ایسےویسے، ویسے ، ایسے کیسے ہیں

ایسےویسے، ویسے ، ایسے کیسے ہیں
دیکھو ناں یہ لوگ بھی کیسے کیسے ہیں
شب بھر گن گن تارے حاصل یہ نکلا
تیرے سارے وعدے تیرے جیسے ہیں
اب میں گاؤں سے کم نکلا کرتا ہوں
تم بتلاؤ شہر میں سارے کیسے ہیں
کیا تم نے نزدیک سے دیکھی تنہائی؟
اس کے سارے روپ ہی میرے جیسے ہیں
اب بھی تیری باتیں خود سے کرتے ہیں
جیسا ہم کو چھوڑ گئے تھے ویسے ہیں

زین شکیل