بجھ بیٹھے جو دیپ جلاؤ، چلتا ہوں
بیتی باتیں مت دہراؤ، چلتا ہوں
میرا ملنا تم کو راس نہیں تو پھر
تنہائی کو پاس بلاؤ، چلتا ہوں
میں بھی وقتِ رخصت، رسماً بول آیا
اب میرے گھر تم بھی آؤ، چلتا ہوں
اچھا تم سے ملنے پھر آجاؤں گا
اب جلدی ہے مان بھی جاؤ، چلتا ہوں
دیکھ کے مجھ کو فوراً چہرہ لال ہوا
بابا غصّے میں مت آؤ، چلتا ہوں
بیت رہی ہے شب مجھ کو گھر جانا ہے
تم جانے کس لمحے آؤ، چلتا ہوں
زین شکیل