دل نے رنج و ملال اپنائے
ہم نے سارے زوال اپنائے
دیکھ بیٹھا ہوا ہوں میں اب تک
صرف تیرا خیال اپنائے
تجھ سا اب دوسرا نہیں ہےناں
کون تیرا جمال اپنائے
اس کو سارے جواب ازبر تھے
اس نے پھر بھی سوال اپنائے
رائیگاں ہو گئے سبھی آخر
ہم نے جتنے کمال اپنائے
زین شکیل