زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا

دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا
یار میں بن سنور کے آیا تھا
ایک مجھ جلد باز کی خاطر
تو بھی کتنا ٹھہر کے آیا تھا
پھر سے مقتل میں لے گئے مجھ کو
دار سے ہی اتر کے آیا تھا
تجھ سے ملنے اناؤں سے اپنی
آج میں لڑ جھگڑ کے آیا تھا
روٹھنے والے اک تری خاطر
میں کسی سے بچھڑ کے آیا تھا
کس طرح اس کے سنگ چلتا میں
وہ زمانے سے ڈر کے آیا تھا

زین شکیل