دیکھ لے گی ہوا ترا لہجہ
کس قدر ہے تھکا ترا لہجہ
میں نے اِس میں تجھے اتارا ہے
تو نے دیکھا نہیں مرا لہجہ
ساری آواز جل گئی لیکن
بچ گیا تھا ہرا بھرا لہجہ
اس کا لہجہ کمال لہجہ ہے
خوبصورت غزل سرا لہجہ
کتنے خاموش تھے وہ تیرے لب
کتنا مانوس تھا ترا لہجہ
لینے آیا تھا مجھ سے جو باتیں
لے گیا چھین کر مرا لہجہ
زین وہ سونپ کر گیا مجھ کو
اس قدر زہر سے بھرا لہجہ
زین شکیل