زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی

گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی
یقین کر لیا میں نے گماں سے پہلے ہی
مجھے زمین پہ رہنے کا شوق ہی کب تھا
گرا ہوا ہوں کسی آسماں سے، پہلے ہی
یہ آپ اپنے کرم اپنے پاس ہی رکھئیے
میں مل چکا ہوں کسی مہرباں سے، پہلے ہی
مریدِ عشق ہوں دکھلاؤ مت درِ دنیا
میں منسلک ہوں کسی آستاں سے، پہلے ہی
سو اب وہ مجھ کو یونہی خرچ کرتا رہتا ہے
بچا کے رکھا تھا جس نے، ضیاں سے پہلے ہی
یہ کس لیے ہے جگر زخم زخم بولوتو
یہ تیر کس نے چلایا، کماں سے پہلے ہی
اُسی نے دیر لگا دی تھی زین آنے میں
میں آگیا تھا کوئے دلبراں سے، پہلے ہی

زین شکیل