زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے

ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے
اور کرنے کو کچھ بھی نہ تھا آج کل ، اور کیا سوچتے
آج سوچا تو آنکھوں کو بہنے سے روکا گیا ہی نہیں
پھر یہ سوچا کہ اب تم کو سوچیں گے کل، اور کیا سوچتے
میں نے تم سے فقط ساتھ چلنے کا پوچھا تھا اس واسطے
میں نے سوچا تھا تم بھی کہو گے کہ ،چل، اور کیا سوچتے
پہلے سوچا کہ اُس سے مقدر تو مل جائے گا ،ورنہ ہم
خود ہی دیں گے نصیبوں پہ پھر خاک مَل، اور کیا سوچتے
تم نے بھی سوچ رکھا تھا شامِ عزاداری ء عشق کا
ہم بھی سورج کے ہی ساتھ جائیں گے ڈھل ، اور کیا سوچتے
تم نے سوچے بنا ایک پل میں ہی صدیاں بھلا کیسے دیں؟
ہم نے تم کو ہی سوچا تھا ہر ایک پل، اور کیا سوچتے

زین شکیل