زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا

ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا
تنہائی سے اب ہاتھ ملانے نہیں جاتا
ناراض تو ہو جاؤ مگر ذہن میں رکھنا
میں روٹھنے والوں کو منانے نہیں جاتا
پیڑوں کے تلے بیٹھنا معمول ہے یوں ہی
ہر بات پرندوں کو سنانے نہیں جاتا
جذبات کو تابندگی دے دیتے ہو آ کر
میں روز تمہیں یوں ہی بلانے نہیں جاتا
آتے ہیں مجھے روز سنانے تِری باتیں
میں چھت سے پرندوں کو اڑانے نہیں جاتا
پہلے ہی پریشان رہا کرتا ہے دریا
میں اور اداسی کو بڑھانے نہیں جاتا
آتا ہے عقیدت کا قرینہ مجھے ،اچھا!
دَر دَر پہ چراغوں کو جلانے نہیں جاتا
وہ مجھ سے کبھی بات بھی کرنے نہیں آیا
میں اس سے کبھی آنکھ ملانے نہیں جاتا
اصرار جو کرتے ہو تو کچھ سوچ ہی لوں گا
ورنہ میں کہیں خواب سجانے نہیں جاتا
مانا کہ میں خاموش رہا کرتا ہوں لیکن
میں اس سے کوئی بات چھپانے نہیں جاتا

زین شکیل