ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ
اس شخص سے اب کیسے کریں ذات علیحدہ
تم ہم سے تو ہم تم سے کریں کوئی گلہ کیوں
پہلے تو ہوا کرتے تھے حالات علیحدہ
ہر شخص کو ہر بات بتاتا ہے وہ لیکن
کرتا ہی نہیں مجھ سے کوئی بات علیحدہ
آ ٹھہرتی ہے دل میں اداسی کی کوئی رُت
آنکھوں میں لگی رہتی ہے برسات علیحدہ
تم بھی تو نہیں کرتے رہے ہجر کا ماتم؟
کیا تم نے گزاری ہے کوئی رات علیحدہ؟
وہ شخص، زمانے میں کہیں کھویا ہوا ہے
ہے جس کی زمانے سے ہر اک بات علیحدہ
اچھا نہیں لگتا اسے تنہائی میں رہنا
اب کیسے کریں اس سے ملاقات علیحدہ
زین شکیل