ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کر
مری تحریر کے آنسو چنا نہ کر
میں تیری آنکھ کے تیور سمجھتا ہوں
فقط خاموش بیٹھا کر، کہا نہ کر
اداسی کے سوا کیا ہے،مرے دل میں
یہ اک بے چین جنگل ہے، گلہ نہ کر
ترا مل کر بچھڑنا مار دیتا ہے
مجھے تُو خواب میں بھی اب ملا نہ کر
مرے جو درد ہیں یونہی مہکنے دے
لگا تو شوق سے مرہم، سہا نہ کر
تجھے اب ماتمی چہروں سے الفت کیوں؟
تجھے میں نے کہابھی تھا، ہنسا نہ کر
تری آواز گھائل ہی نہ ہو جائے
صدائیں دشت میں مجھ کو دیا نہ کر
مری آوارگی تجھ کو نہ لے ڈوبے
تومیرے ساتھ بیٹھا کر، چلا نہ کر
زین شکیل