زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

جب اسے حال سنا لیتا ہوں

جب اسے حال سنا لیتا ہوں
اپنی آنکھوں کو جھکا لیتا ہوں
دیر تک تم کو سنا کرتا ہوں
پھر کوئی گیت بنا لیتا ہوں
وہ بھی باتوں میں چلی آتی ہے
میں بھی باتوں میں لگا لیتا ہوں
جب بھی آتی ہے کبھی خوابوں میں
میں اسے پاس بٹھا لیتا ہوں
آنکھ لگنے سے ذرا سا پہلے
اس کی تصویر اٹھا لیتا ہوں
پھر کہیں جا بھی نہیں سکتا ناں
جب اسے پاس بلا لیتا ہوں
وہ مرا سب کو بتا دیتی ہے
میں اسے پھر بھی چھپا لیتا ہوں
ہجر میں درد مزہ دیتے ہیں
غم کو اعزاز بنا لیتا ہوں

زین شکیل