جنوں کو محترم کرنے لگے ہو
سو یوں خود پر ستم کرنے لگے ہو
ابھی تو ایک لہجہ کم ہوا ہے
ابھی سے آنکھ نم کرنے لگے ہو
زمانہ نام لیتا ہے تمہارا
زمانے پر کرم کرنے لگے ہو
بتا دو جرم ہم سے کیا ہوا ہے
جو ہم سے بات کم کرنے لگے ہو
اداسی زین روتی جا رہی ہے
یہ اب کیسا ستم کرنے لگے ہو
زین شکیل