زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا

جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا
وہ پاس رہ کے مجھے اور یاد آنے لگا
یقیں کرو مری سانسیں اکھڑ گئیں اُسی دم
وہ میرے پاس سےجب جب بھی اٹھ کے جانے لگا
میں کوئی بات ستاروں سے کرنے والانہیں
یہ چاند کس کی کہانی مجھے سنانے لگا
ابھی جمے بھی نہیں عشق میں ہمارے قدم
تو کیوں یہ شہر ہمیں دار پر چڑھانے لگا
وہ دفن کر کے مجھے خوش ہے اور سوچتا ہے
بھلا ہوا کہ کوئی درد تو ٹھکانے لگا
اب اس سے کچھ بھی تو کہنا مجھے نہیں ہے کہ وہ
ہنسی ہنسی میں مری بات بھی اڑانے لگا

زین شکیل