کھڑکیوں سے جھانکتی رہ جاؤ گی
تم مجھے یوں سوچتی رہ جاؤ گی
میں تمہارے پاس ٹھہروں گا نہیں
دور سے تم دیکھتی رہ جاؤ گی
جس طرح سے چاہتا تھا میں تمہیں
اس طرح سے چاہتی رہ جاؤگی
تم ندی میں پتھروں کو پھینک کر
دائروں کو دیکھتی رہ جاؤ گی
غرق ہو کر اک تصور میں مِرے
ہاتھ اپنا چومتی رہ جاؤ گی
یاد میں صدیوں تلک ہو جاؤں گا
لمحہ لمحہ بھولتی رہ جاؤ گی
نیند تو ہر رات میں آجائے گی
خواب میں تم جاگتی رہ جاؤ گی
ہجر تم کو دور تک لے جائے گا
دیر تک تم ہانپتی رہ جاؤ گی
زین شکیل