کچھ اس طرح مری قسمت سنوار دی گئی ہے
کہ دل میں آپ کی صورت اتار دی گئی ہے
کسی بھی شام سے اب واسطہ نہیں رکھنا
تمہارے وصل کی خواہش بھی مار دی گئی ہے
اگر یہ کوئی سنے گا تو کیا وہ سوچے گا؟
کہ ایک عمر کسی در پہ ہار دی گئی ہے!
میں دوستوں سے کہوں کیا کہ فکرِ دنیا بھی
کسی کی یاد کے صدقے میں وار دی گئی ہے
اب اس طرح سے اجڑ کر کہیں پڑے ہوئے ہیں
کہ جیسے ذات بھی جوئے میں ہار دی گئی ہے
زین شکیل