خواب میں بھی ترا خیال رہا
یوں بھی سونا مرا محال رہا
وہ کسی اور کا بھی ہو نہ سکا
مجھ کو اس بات کا ملال رہا
اس کی آنکھوں میں اشک جمتے گئے
میرے لب پر بھی اک سوال رہا
تم تو کچھ دیر اشکبار رہے
میں بڑی دیر تک نڈھال رہا
میرے ماتم پہ آ گئیں خوشیاں
موت کا سانحہ کمال رہا
کیوں مرے دن اجڑ اجڑ کے بسے
کیوں مری رات پر زوال رہا
زین وہ پاس ہی رہا نہ مرے
بن کے بس جان کا وبال رہا
زین شکیل