زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے !
یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے !
ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں !
وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے !
تمہارے ہاتھ ہے ! مٹی مِری ! نصیب مِرا !
تمہاری مرضی ہے ! جو بھی بنا کے رکھ دو مجھے !
نجف کا دیپ ہوں میں ! بجھ نہیں سکوں گا کبھی !
تم آندھیوں میں بھی چاہے جلا کے رکھ دو مجھے !
میں اب گما ہوا ! خود کو کہاں کہاں ڈھونڈوں ؟
کہا تھا ! رکھنا جہاں ہے ! بتا کے رکھ دو مجھے !
میں چھُو کے چھوڑا ہوا، ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں !
تمہیں یہ کس نے کہا تھا اٹھا کے رکھ دو مجھے !
میں جل کے راکھ بھی ہو جاؤں ! مسئلہ نہیں ! پر !
میں کام آتا رہوں گا ! بُجھا کے رکھ دو مجھے !
تمہارے ہاتھ سے رکھے ہوئے کی خیریں ہوں !
جو پاس رکھنا نہیں دور جا کے رکھ دو مجھے !
تمہاری میز پہ رکھا ہوا میں خط ہی سہی !
اداس ہو کے پڑھو، مسکرا کے رکھ دو مجھے !

زین شکیل