کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھے
کنارے بٹ نہیں سکتے سہارے بانٹ لینے تھے
محبت میں کبھی نقصان تو ہوتا نہیں لیکن
سمجھنا تھا یہی تو پھر خسارے بانٹ لینے تھے
جسے تم نے بھلایا ہے وہی اک شخص تھا ایسا
کہ جس نے مسکرا کر دکھ تمہارے بانٹ لینے تھے
سو اب نظروں کا شکوہ کیوں؟یہ پہلے سوچ لیتے نا
نگاہیں بانٹ لینی تھیں، اشارے بانٹ لینے تھے
کہاں تھا ناں کہ میرےبن کٹھن ہوجائے گا جینا
سو میری مان لینی تھی، گزارے بانٹ لینے تھے
جسے فرصت نہیں ملتی ہمارے پاس آنے کی
کہاں پھر زین اس نے غم ہمارے بانٹ لینے تھے
زین شکیل