زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

کوئی لمحہ اجڑ جانے کی باتیں

کوئی لمحہ اجڑ جانے کی باتیں
کرو مجھ سے بچھڑ جانے کی باتیں
پھر ان کے پاس جب بھی بیٹھ جاؤں
نہیں کرتا میں گھر جانے کی باتیں
مری آنکھوں میں دیکھو اور پڑھ لو
کوئی صحرا بکھر جانے کی باتیں
کبھی تو چاند کرتا ہی رہا تھا
سمندر میں اتر جانے کی باتیں
حقیقت جانتا ہوں زندگی کی
کرو نہ مجھ سے مر جانے کی باتیں
یہاں وہ ٹھہر کے کرتا رہا تھا
یہاں سے بھی گزر جانے کی باتیں
نہیں کرتا کوئی اب مجھ سے آ کر
مری قسمت سنور جانے کی باتیں

زین شکیل