زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

مری ذات مجھ سے جدا نہ کر، مجھے مل کبھی

مری ذات مجھ سے جدا نہ کر، مجھے مل کبھی
یونہی خود کو مجھ سے خفا نہ کر، مجھے مل کبھی
یہ جو شام ہے یہ سجی ہے تیرے خیال سے
سو یہ وقت یونہی قضا نہ کر، مجھے مل کبھی
کہیں تجھ سے دور میں رہ سکوں، کہیں بس سکوں
مرے حق میں ایسی دعا نہ کر، مجھے مل کبھی
یہ جو شہر ہے یہ تماش بینوں کا شہر ہے
یہاں ہر کسی سے ملا نہ کر، مجھے مل کبھی
مرے سوہنیا مری چاہتوں کا حساب رکھ
مرا ہر کسی سے گلہ نہ کر، مجھے مل کبھی

زین شکیل