مرے پاس آ مرے ہمنوا ابھی عید ہے
تو گلے تو مل ذرا مسکرا ابھی عید ہے
یہ جو دل جو ہے نا، یہاں رنجشوں کو جگہ نہ دے
اسے صاف رکھ، مرے دوستا ابھی عید ہے
تو جو پھول ہے کسی باغ کا سو مہک ذرا
تُو غموں کی دھوپ کو بھول جا ابھی عید ہے
یہ جو عید ہے یہ وصال رُت کی نوید ہے
اسے دردِ ہجر میں مت گنوا ابھی عید ہے
یہ جو زین غم کی بڑھاس ہے ، کسے راس ہے
سبھی درد بھول کے مسکرا ابھی عید ہے!
زین شکیل