مرے وجود سے تیرا خمار ڈرتا ہے
کہ مجھ سے اب بھی ترا انتظار ڈرتا ہے
میں نوچ لوں نہ کہیں اس کے جسم سے خود کو
وہ کر رہا ہی نہیں اعتبار، ڈرتا ہے
میں کونے کونے پہ وحشت سجایا کرتا ہوں
سو مجھ سے شہر ترا بار بار ڈرتا ہے
غموں نے جب سے چنا ہے مجھے سدا کے لیے
قریب آتے ہوئے غمگسار ڈرتا ہے
راہِ وفا کا یہ دستور ہے اگر اس پر
جو ایک بار ڈرا بار بار ڈرتا ہے
یہی کہا تھا مرا ہاتھ تھام لے پاگل
یہ تجھ سے ہو نہ سکا چھوڑ یار ڈرتا ہے
زین شکیل