میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوں
آنکھ کھلنے پہ بھی خوابوں میں پڑا رہتا ہوں
میں نے وعدے تو ترے گن کے نہیں رکھے تھے
جانے پھر کیسے حسابوں میں پڑا رہتا ہوں
تجھ سے پہلے بھی عذابوں میں پڑا رہتا تھا
تو نہیں ہے تو عذابوں میں پڑا رہتا ہوں
میری محفل میں تو بس دکھ ہی پڑے رہتے ہیں
اتنا اچھا ہوں خرابوں میں پڑا رہتا ہوں
جب وہ ملنے کی کوئی بات نہیں کرتا ناں
میں بھی چپ چاپ حجابوں میں پڑا رہتا ہوں
زین شکیل