پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں
پھر وحشت نے شور مچایا ہو گا ناں
میرے آنسو پھیل گئے ہیں آنکھوں میں
اُس نے میرا سوگ منایا ہوا گا ناں
تُو نے بھی تو شہر میں بسنے کی خاطر
کیسا کیسا ڈھونگ رچایا ہو گا ناں
میں جو اتنے پاس سے تجھ کو دیکھوں گا
تو بھی کتنی دور سے آیا ہو گا ناں
یہ جو آدھی رات کو تارے روئے ہیں
پھر بادل نے چاند چرایا ہو گا ناں
آجا میری نیند کہیں سے آ بھی جا
وہ ملنے کو خواب میں آیا ہو گا ناں
میں تو بس یہ سوچ کے گھر سے نکلا ہوں
اس نےمجھ کو آج بلایا ہو گا ناں
جن پیڑوں کے سوکھ گئے ہیں پھل ، ان کو
اُس نے میرا حال سنایا ہو گا ناں
زین شکیل