زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

پیار جتانے آ جانا تھا

پیار جتانے آ جانا تھا
آج ستانے آ جانا تھا
بھول چکے ہو یوں لگتا ہے
یاد دلانے آ جانا تھا
شوق سے بچھڑو لیکن پہلے
ہاتھ چھڑانے آجانا تھا
آج مری تم نے مجھ سے ہی
ذات چرانے آجانا تھا
روٹھ چکا ہوں تم سے کل کا
آج منانے آجانا تھا
آج بھی تم نے ہنستے ہنستے
نیر بہانے آجانا تھا
زین گلی میں آخر تم نے
خاک اڑانے آ جا نا تھا

زین شکیل